معاشرے کی اصلاح کی محنت جائے بے کار کیوں؟

July 4, 2020

Comments

[vc_row][vc_column][vc_column_text]

آج کل ہر فرد کو معاشرے کے اصلاح کی فکر لاحق ہے۔ہر انسان معاشرے کو سدھارنے کی کوششوں میں لگا ہوا ہے۔حکومتی سطح پر بھی اس مقصد کی کوششیں جاری ہیں۔مگر اتنی جدو جہد اور کوششوں کے باوجود معاشرہ آج بھی انہی بگاڑ و فساد کے ساتھ سانس لے رہا ہے۔غور کرنے کی بات یہ ہے کہ آخر ساری محنتیں بیکار کیوں ہیں؟ساری کوششوں کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ کیوں نہیں نکل رہا؟معاشرے کے اصلاح کی کوئی تدبیر کامیاب کیوں نہیں ہو رہی؟معاشرہ سدھرنے کے بجائے بگاڑ و فساد کی طرف کیوں بڑھ رہا ہے؟جبکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں وعدہ کیا ہے کہ”جو لوگ ہماری راہ میں کوششیں کریں گے ہم انہیں اپنی راہ کی ہدایت کریں گے”…یہ تو ظاہر ہے کہ خدا کا کلام اور فرمان غلط نہیں ہو سکتا اور نہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ خلافی کی کوئی گنجائش چھوڑی ہے۔,,تو پھر کمی کہاں ہے؟اگر ہم غور و فکر کے دریچے کو کھولیں اور اپنے اندر جھانک کر دیکھیں اور تحقیق کے دائرے کو ذرا وسیع کریں تو اتنا ضرور جان جائیں گے کہ کمی باہر نہیں ہمارے اندر ہے۔کتنے اغراض چھپے ہیں ہمارے اندر۔ہماری یہ جدو جہد اتنے عیوب سے بھری پڑی ہے کہ اسے”اِصلاحِ معاشرہ”کی کوشش کہنا ہی درست نہیں۔ہم “اصلاح کی کوشش”کے اصول و ضوابط سے بلکل ناواقف ہیں۔اس کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ ہم اصلاح کا آغاز ہمیشہ دوسروں سے کرتے ہیں۔انسان اور نظام کی درستگی کیلئے ہماری ہر تقریر و تحریر٫ہماری ہر نصیحت٫اور ہمارے تمام اجلاس دوسروں کے لیے ہوتے ہیں۔ہماری خواہش ہوتی ہے کہ تمام برائیوں کا خاتمہ دوسروں کی ذات اور گھر سے ہو۔معاشرے سے تمام فضول رسومات اور بدعات کے خاتمے کا آغاز دوسرا کرے٫ہر قسم کی تبدیلی کا آغاز بھی دوسرا کرے۔ہم ہر اچھے کام کی دوسروں کو نصیحت کر کے سمجھتے ہیں کہ ہمارا فرض پورا ہو گیا۔ہم دوسروں پر جھٹ سے کفر،شر پسند،فسادی اور غدار ہونے کا الزام لگا دیتے ہیں اور اپنی ہر چھوٹی بڑی غلطی کی ہزاروں تاویلیں اور دلیلیں پیش کر کے اپنا دفاع کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔شدید حیرت تو تب ہوتی ہے جب انتہائی گھٹیا اور ناقابلِ سماعت الفاظ پڑھے لکھے لوگوں سے سننے کو ملتے ہیں۔وہ اپنی علمی قابلیت کو اعلیٰ و ارفع جانتے ہوئے دوسرے کی رائے کو محض فضول اور بیکار قرار دیتے ہوئے الزام تراشی شروع کر دیتے ہیں۔ارے ہم تو اس مذہب کے پیروکار ہیں جو جھوٹی خبر بغیر تصدیق کے دوسروں تک پہنچانے پر اعتراض کرتا ہے۔اور ہم محض سنی سنائی خبروں کو ایسے دوسروں تک پہنچاتے ہیں جیسے کتنی ہی کتابوں سے پڑھ کر اور اپنی آنکھوں سے دیکھ کر اس خبر کو پرکھا ہو۔کسی کے بارے میں غلط رائے قائم کر کے لعن طعن کرنا کہاں کی سمجھداری ہے۔اگر کسی میں کوئی برائی نظر بھی آتی ہے تو اُسے نصیحتیں جھاڑنے کے بجائے خود پر غور کیجئے کہ کہیں وہ آپ میں تو نہیں اگر خدانخواستہ ہے تو پہلے اُسے دور کیجئے۔فرمان باری تعالیٰ ہے”اپنے آپ کو اوراپنے اہل وعیال کو آگ سے بچاو” پہلے خود کو بچانے کا حکم دیا گیا بعد میں دوسروں کا کہا گیا۔اگر ہمیں اس بات کا احساس ہو جائے کہ برائیوں کے خاتمے کا مطالبہ خود ہماری ذات سے بھی ہے،بیکار رسم و رواج کے خاتمے میں ہماری بھی کوئی زمہ داری ہے،زِندگی میں تبدیلی لانے کا فریضہ ہمارے اوپر بھی عائد ہوتا ہے۔شاید ہی کوئی یہ سوچتا ہو کہ ہمیں خود بھی اپنے اخلاق و کردار کو بہتر بنانا چاہیے کیونکہ عمل قول سے ذیادہ تاثیر رکھتا ہے۔لوگوں کی توجہ اس بات پر نہیں ہوتی کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں بلکہ وہ یہ دیکھتے ہیں کہ آپ کیا کر رہے ہیں۔سب سے پہلے خود کو بہتر بنانے کی کوشش کریں کیونکہ جب تک آپ خود بہتر نہیں ہوں گے آپ دوسروں کو بہتر نہیں بنا سکتے۔اگر ہم میں سے ہر شخص خود کو بہتر بنانے کی کوشش میں لگ جائے تو ہمارا سارا معاشرہ بہتر ہو جائے گا۔اور ہاں ایک بات,,,یہ بھی ضروری نہیں کہ ماحول اور آپ کا عمل واقع اثر انداز ہو،بات استعداد کی بھی ہے،حق قبول کرنے کی گنجائش کس میں کتنی بے۔اگر کسی کی گمراہی مقدر ہو تو کائنات کی کوئی طاقت ہدایت نہیں دے سکتی۔اس کے باوجود ہمیں حق بات کر کے اور اپنے عمل سے دوسروں کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہیے کیونکہ ہمارا کام کوشش کرنا ہے ہدایت دینا نہیں وہ اللہ کا کام ہے۔لوگوں سے اچھی اور بہترین بات کرو کوئی بات تسلیم کرے نہ کرے آپ عمل کرتے جائیں۔اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت دی ہے کسی کو کم تو کسی کو زیادہ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم کس طرح اس صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہیں۔کس حد تک ہم اس کا مثبت یا منفی استمعال کر سکتے ہیں۔اسی طرح اگر ہم ہر کام کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ہمہ تن متوجہ ہو جائیں اور اپنی ذات سے اصلاح کا آغاز کریں تو یقیناً ہمارا معاشرہ چین و سکون کا گہوارہ بن جائے گا۔یہ حوصلہ بھی عطا کر مجھے خدائے کریم
کہ اپنے آپ کو خود آئینہ دکھاؤں میں

ELORA,,,

 

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column width=”1/1″][uncode_author_profile][/vc_column][/vc_row]

5 1 vote
Article Rating

Related Posts

اردو کو لکھنا ہوا اب آسان

اردو کو لکھنا ہوا اب آسان

اینڈروئیڈ کے لئے اردو زبان کا کی بورڈ »سینٹر آف لینگویج انجینئرنگ برائے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پاکستان کا ایک منصوبہ۔keyboad by CLE اگر آپ اردو لکھنا چاہتے ہیں اور آپ ٹائپ کرنا نہیں جانتے ہیں۔اس گوگل سروس کا استعمال کریں رومن اردو میں لکھیں ۔ یہ خود...

تنہائی اک کَرب یا قُرب ؟

شاہکار حقیقی سے آشکار شخص کسی بھی چیز کو بیکار سمجھ ہی نہیں سکتا۔وہ تنہائی کے لمحات کو زحمت کی بجائے رحمت سمجھنے لگتا ہے کیونکہ اس کیفیت نے اُسے اُن چیزوں سے واقفیت دلائی ہے

سوچ پر کیسے قابو پایا جائے ؟

انسان جیسا محسوس کرے گا ویسا سوچنا شروع کر دے گا. اگر منفی سوچیں لمحوں پر غالب ہیں تو لمحوں کو مثبت خیالات کی طرف موڑنے کی کوشش کریں. سوچیں تیز ندیوں کا وہ بہاو ہیں جہنیں روکا تو نہیں جا سکتا مگر سمت ضرور تبدیل کی جاسکتی ہے.

4 Comments

Subscribe
Notify of
guest
4 Comments
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments
hayat murat

Masha Allah it’s good piece of work! I will improve myself so that I can contribute in the improvement of our society.keep it up!

INFINITY DECODER

thank you for your beautiful thought

Anonymous

Bht acha

INFINITY DECODER

Thank you !

News & Updates

Join Our Newsletter

Join To Know !

Join To Know !

join our reader's list. just enter email and hit subscribe. You Would be informed, when we made new post.

©Infinity Decoder™

You have Successfully Subscribed!