کُچھ لوگوں کے نزدیک تنہائی کرب و تکلیف کی ایک قسم ہے۔ایک عام انسان تنہائی سے بھاگتا ہے, تنہائی اسے ڈراتی ہے کیونکہ وہ اسیرِ بزم ہوتا ہے اور تنہائی میں دُنیا کے ہنگاموں کا شور ماند پڑ جاتا ہے اور اس کے کان خاموشی کے پیغامات کو سننے کی تاب نہیں لا پاتے, اُسے یہ عمل موت کے برابر لگتا ہے, وہ گھبرا جاتا ہے اور تنہائی سے نکل بھاگتا ہے۔بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کُچھ لوگوں کے ساتھ غیر متوقع واقعات پیش آ جاتے ہیں جیسا کہ حادثات کا شکار ہونا, بیماریوں سے دو چار ہو جانا, پیاروں کا بچھڑنا وغیرہ…یہ ایسے واقعات ہیں جو انسان کو درد سے آشنا کرتے ہیں اور انسان خود کو دوسروں سے مختلف اور کٹا ہوا محسوس کرتا ہے۔درد اسے کانٹے کی طرح چھبتا ہے۔ایسے میں یا تو وہ ہتھیار ڈال دیتا ہے اور لاشعوری طور پر خود کو ٹھکرایا ہوا اور علیحدہ تصور کرنے لگتا ہے اور رشتے داروں اور دوست احباب کی کمی محسوس کرتا ہے۔ ایسے میں تنہائی کا مطلب ہوتا ہے کہ میرا کوئی نہیں اور میں کسی کا نہیں ہوں۔انہی منفی سوچوں کے زیرِ اثر وہ اُداسی اور مایوسی کی اندھیری وادیوں میں کھو کر احساسِ تنہائی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے اور زِندگی کی پُر لطف لذتوں سے محروم ہو جاتا ہے۔دوسری صورت میں وہ اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے صبر کا دامن تھام لیتا ہے اور اُسکا دل اللہ کی رضا میں راضی ہو جاتا ہے وہ خاموشی کے پیغامات کو محسوس کرنے لگتا ہے ایسے وقت میں وہ خود کے قریب ہو کر قرب اِلٰہی تک پہنچ جاتا ہے پھر وہ ایسی پُرسکون کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے جس کی سوچ بھی دُنیا کے جم غفیر میں ممکن نہیں۔پھر اُسے قادر مطلق کے ہر کام اور نظام میں مصلحت نظر آتی ہے,اس کے اندر ایک تخلیقی انسان جنم لیتا ہے جو چیزوں کو نئے جذبے اور انداز سے پرکھتا ہے, اُسے کوئی بھی کام فضول یا بیکار نہیں لگتا کیونکہ شاہکار حقیقی سے آشکار شخص کسی بھی چیز کو بیکار سمجھ ہی نہیں سکتا۔وہ تنہائی کے لمحات کو زحمت کی بجائے رحمت سمجھنے لگتا ہے کیونکہ اس کیفیت نے اُسے اُن چیزوں سے واقفیت دلائی ہے جو شاید زِندگی کی مصروفیات میں کہیں کھو گئی تھیں۔خیالات اور جذبات کی پرورش کے لئے تنہائی بہت ضروری ہے۔قُدرت نے بھی انسان کو تنہائی میں ڈالنے کا انتظام کر رکھا ہے۔ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اللہ نے اپنا رسول بنایا تو آپ صلی االلہ علیہ وسلم کو” غارِ حرا” خلوت اور عبادت کے لیے پسند آئی اس مقام پر قرآن کا نزول شروع ہوا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام قرآن پاک کا نزول کا آغاز بھی تنہائی میں کیا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تنہائی کے لمحات اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ لمحات ہیں بشرطیکہ وہ مثبت خیالات پر مشتمل ہوں۔کنگ مارٹن لوتھر نے اس امر کا اعتراف کیا کہ”محبت کی پرورش کے لئے بھی تنہائی کی ضرورت ہوتی ہے”ماہرِ نفسیات کہتے ہیں کہ”یہ معاملہ پیاس کی طرح کا ہے جب آپ پیاسے ہوتے ہیں تو پانی تلاش کرتے ہیں۔اسی طرح تنہائی محسوس کرنے پر آپ دوست, ساتھی اور ایسے آشنا کو تلاش کرتے ہیں جن کے ساتھ اچھا وقت گزار سکیں جو آپ کو سمجھ سکے”یعنی تنہائی آپ کو نئے تعلقات بنانے اور پرانے بہتر بنانے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ایسی صورتحال سے گزرا ہوا شخص دوسروں کی تکلیفوں کو محسوس کرتا ہے اور اپنے ساتھ برا کرنے والوں کو بھی دعاؤں سے نوازتا ہے۔پس تنہائی میسر آنے پر دوسروں کی بے رخی کے بارے میں سوچ کر کڑنے اور خود کو مزید اذیت میں مبتلا کرنے کی بجائے تنہائی پسند بن جائیں,اپنی خوبیوں اور خامیوں پر غور کریں, خوبیوں کو مزید بہتر بنانے اور خامیوں سے چھٹکارا پانے کی کوشش کریں۔بانو قدسیہ کہتی ہیں کہ”انسان کے اندر دو بھیڑیے ہوتے ہیں ایک اچھائی کا اور دوسرا برائی کا لیکن پھلتا پھولتا وہی ہے جس کو ہم کھلاتے پلاتے ہیں” اس کا مطلب کہ اچھی یا بری سوچ انسان پر حاوی نہیں ہوتی بلکہ غلبہ اسی سوچ کا ہوتا ہے جس کو ہم زیادہ وقت دیتے ہیں تو اگر ہم اپنی سوچ کو درست سمت میں رکھیں گے تو ہر صورتحال میں ہمیں اپنی شناخت کا موقع ملے گا۔پھر دُنیا بھی خوبصورت لگے گی اور لوگ بھی, تھوڑا غور کرنے پر یہ بھی جان جائیں گے زِندگی مشکل ضرور ہے لیکن بد نما اور بیکار نہیں مشکلات کا آنا ایک فطری عمل ہے اس وقت میں ہم ثابت قدم رہ کر خود کو مضبوط بنا سکتےہیں۔مومن خان مومن نے تصوف کا اک شعر کہہ کر تنہائی کو خوبصورت بنا دیا…تم پاس ہوتے ہو گویاجب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

 

ELORA

 

 

Elora

I am a graduate with passion of writing. A chemist & inspirationalist. My words bring vibration in soul.

0 0 votes
Article Rating